بنگلورو،یکم جولائی (ایس او نیوز) ریاستی وزیر برائے پرائمری وسکنڈری تعلیم ایس آر سرینواس نے کہا کہ کسی بھی لابی یا دباؤ میں نہ آتے ہوئے اس مرتبہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے تبادلے مکمل کئے جائیں گے- یہاں شکشا ابھیان سنٹرل دفتر میں محکمہ تعلیمات عامہ کے افسروں کے ساتھ طلب کردہ اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سرینواس نے اس خیال کا اظہار کیا- انہوں نے بتایا کہ افزود اساتذہ کے تبادلوں اور لازمی تبادلوں میں خامیوں کی وجہ سے اس عمل کو رد کرنے چند اراکین کونسل دباؤ ڈال رہے ہیں تو چند اراکین اس عمل کو مکمل کرنے کا دباؤ ڈال رہے ہیں - انہوں نے کہا کہ تاہم گزشتہ 3سال سے تبادلہ نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ مایوس ہیں اس لئے اس مرتبہ ضوابط کے تحت تبادلے ہوں گے- تکنیکی مسائل ہوں تو افسران حل کریں گے جبکہ وزیر اعلیٰ نے بھی تبادلوں کو مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے- انہوں نے بتایا کہ تبادلوں سے ہونے والے مسائل و دیگر کے تعلق سے متعلقہ افسروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا ہے-چند اساتذہ کئی سال سے ایک ہی مقام پر ہیں اور دیہی علاقوں میں خدمات انجام دینے والوں کو شہری علاقوں میں اور شہری علاقوں کے اساتذہ کو دیہی علاقوں میں لانا ہے- اسی لئے چند اساتذہ تبادلوں کی مخالفت کرتے ہیں - وزیر تعلیم نے بتایا کہ نصابی کتابوں کی تقسیم میں کوئی خامی نہیں ہے اب تک ریاست بھر میں 97 فیصد کتابوں کی سربراہی ہوچکی ہے- انہوں نے بتایا کہ دھارواڑ اور میسور اضلاع میں تاخیر سے انڈنیٹ پیش کئے جانے سے کتابوں کی سپلائی میں تاخیر ہوئی ہے جبکہ بقیہ اضلاع میں کوئی مسئلہ نہیں ہے- ایک سوال کے جواب میں سرینواس نے بتایا کہ چند نجی اسکولوں کی جانب سے آر ٹی ای قانون کے تحت داخل بچوں سے پیشگی طور پر داخلہ فیس ادا کرنے کا مطالبہ کئے جانے کی شکایات موصول ہوئی ہیں - ایسے اسکولوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی- اس موقع پر محکمہ پرائمری و سکنڈری تعلیم کے جنرل سکریٹری ایس آر اوماشنکر، کمشنر ڈاکٹر پی سی جعفر، سرواشکشنا ابھیان کے ڈائرکٹر ریجو حاضر رہے-